Urdu Poetry !! ( اُردُو شاعرى )


کتنی زرخیز ہے نفرت کے لیے دل کی زمیں
وقت لگتا ہی نہیں فصل کی تیاری میں

———

شہرت کی بھوک ہم کو کہاں لے کے آ گئی …
ہم محترم ہوئے بھی تو کردار بیچ کر

———

میں اپنی جیب میں اپنا پتا نہیں رکھتا
سفر میں صرف یہی اہتمام کرتا ھوں

میں ڈر گیا ھوں بہت سایہ دار پیڑوں سے
ذرا سی دھوپ بچھا کر قیام کرتا ھوں


——— 


گزرتا ہے ہر شخص چہرہ چھپائے
کوئی راہ میں آئینہ رکھ گیا ہے
خمار بارہ بنکوی

———

کتنی زرخیز ہے نفرت کے لیے دل کی زمیں
وقت لگتا ہی نہیں فصل کی تیاری میں

———

اس موسمِ گل ہی سے بہکے نہیں دیوانے
ساتھ ابرِ بہاراں کے وہ زلف بھی لہرائی

———

اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیء خیال کی عادت ___ تمام شُد

جائز تھی یا نہیں، ترے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ وکالت ___ تمام شُد


——— 


اب تک ہے کوئی بات مجھے یاد حرف حرف
اب تک میں چن رہا ہوں کسی گفتگو کے پھول

———

من کی من میں بات رہے تو من کو لاگے روگ
من کھولیں تو مشکل کر دیں جیون اپنا لوگ

———

میرے ہمراہ گرچہ دور تک لوگوں کی رونق ہے
مگر جیسے کوئی کم ہے، کبھی مِلنے چلے آؤ

تمہارے رُوٹھ کے جانے سے ہم کو ایسا لگتا ہے
مقدر ہم سے برہم ہے، کبھی مِلنے چلے آؤ


———

مجھے شادابی صحنِ چمن سے خوف آتا ہے
یہی انداز تھے جب لُٹ گئی تھی زندگی اپنی
ظہیر کاشمیری

———

سلجھائیں بے دلی سے یہ الجھے ہوئے سوال
واں جائیں یا نہ جائیں، نہ جائیں کہ جائیں ہم

——— 


سمجھے تھے جن کو پھول وہ شاخوں کے زخم تھے
شبنم کے اشک تھے جو دکھایٔی دیے چراغ

———

آج کیوں اکیلا ھوں، دل سوال کرتا ھے
لوگ تو اسی کے تھے، کیا خدا بھی اس کا تھا

———

‫بـن نـہ سـکـی ۔۔۔۔۔۔۔۔ احـبـاب سـے اپـنے
وہ دانـا تـھـے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہـم دِیـوانـے

———

تو ہے کِس حال میں اے زود فراموش میرے
مُجھ کو تو چھین لیا عہدِ وفا نے میرے

———

وہ شخص آخری سچ ھے میرے فسانے کا…
اور اس کے بعد کا قصہ فقط کہانی ھے

———

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں الجھ جاتی ہیں

——— 


اے چشم فلک اے چشم زمیں ہم لوگ تو پھر آنے کے نہیں
دو چار گھڑی کا سپنا ہیں دو چار گھڑی کا خواب ہیں ہم
کیا اپنی حقیقت کیا ہستی’ مٹی کا ایک حباب ہیں ہم
دو چار گھڑی کا سپنا ہیں دو چار گھڑی کا خواب ہیں ہم

———

اڑنے لگے آکاش پہ جلتے ہوئے تارے
جب شام ڈھلے ہار کے ڈوبا کوئی سورج

———

پِھر اُن کی گلی میں پہنچے گا، پھر سِہو کا سجدہ کر لے گا
اِس دل پہ بھروسہ کون کرے، ہر روز مُسلماں ہوتا ہے