Urdu Poetry !! ( اُردُو شاعرى )


جانے کس برسات کی مقروض ہیں آ نکھیں میری
ہو گیا ہے بارشوں کی پیروی کرنے کا شوق

———

بہت محسوس ہوتا ہے
تیرا محسوس نہ کرنا

———

وہـــــی ہوا نا بـچھـــــڑنے پے بات آ پہنـــچـــی
تجـــــھے کہا تھا پـــرانے حســـــاب رہنے دے

———

نیند بهی محبوب ہو گی دیکهو
بیوفا _____ رات بهر نہیں آتی

——— 


نیند بهی محبوب ہو گی دیکهو
بیوفا _____ رات بهر نہیں آتی

———

ایک فراز تمہی تنہا ہو جو اب تک دکھ کے رسیا ہو
ورنہ اکثر دل والوں نے درد کا رستہ چھوڑ دیا ہے

———

گوری دیکھ کے آگے بڑھنا، سب کا جھوٹا سچّا، ہُو
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچّا ہُو

———

میرے دل میں اُتر سکو تو شاید یہ جان لو
کتنی خاموش محبت تم سے کرتا ہے کوئی۔

———

کہتے ہیں عشق نام کےگذرے ہیں اک بزرگ
ہم لوگ بھی مرید اُسی سلسلے کے ہیں

———

کہتے ہیں عشق نام کےگذرے ہیں اک بزرگ
ہم لوگ بھی مرید اُسی سلسلے کے ہیں

——— 


جانے کس عمر میں جائے گی یہ عادت اپنی
روٹھنا اس سے تو اوروں سے الجھتے رہنا

———

تلخ ہے کتنا سکھ سے جینا، پوچھ نہ یہ فنکاروں سے
ہم سب لوہا کاٹ رہے ہیں کاغد کی تلواروں سے

———

مجھ میں بے لوث محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
تم جو چاہو تو میری سانسوں کی تلاشی لے لو

———

میری چاہت کی بہت لمبی سزا دو مجھ کو
کرب تنہائی میں جینے کی دعا دو مجھ کو
خود کو رکھ کر میں کہیں بھول گئی ہوں شاید
تم میری ذات سے اک بار ملا دو مجھ کو

———

ہوش اُڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں
تیری بستی میں ہوں یا خوابِ طرب ہے کوئی

———

مسکراہٹ،….. تبسم،… ہنسی،…… قہقہے
سب کے سب کھو گئے ، ہم بڑے ہوگئے ۔۔!۔

——— 


ہر قدم پر ایک ٹھوکر، ہر گھڑی زحمت نئی
رفتہ رفتہ، زندگی! تجھ سے شناسائی ہوئی!

———

نہ شوقِ وصل نہ رنجِ فراق رکھتے ہیں
مگر یہ لوگ ترا اشتیاق رکھتے ہیں

———

بارش کی بوندوں میں جھلکتی ہے اسکی تصویر
آج پھر بھیگ بیٹھی اسے پانے کی چاہت میں ۔ ۔

———

اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا​