Urdu Poetry !! ( اُردُو شاعرى )


اپنے دل کو بھی بتاؤں نہ ٹھکانہ تیرا
سب نے جانا جو پتہ، اک نہ جانا تیرا

———

گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
رہتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

———

اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل ک

———  


بہار آئی تو اک شخص یاد آیا بہت
کہ جس کے ہونٹوں سے جھڑتے تھے پھول ہنستے میں

———

اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا​

———

اک سناٹا تھا، ویرانی تھی، گزرگاہِ حیات
جانے کب اس دل نے محبت کو سمجنا سیکھا

———

اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل ک

———

اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا​

———

روزِ قیامت ہے میرا، ہر روزِ حیات
حشر ہُوں _ اور خُود میں بپا ہوں

——— 


اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں
عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا​

———

پریت لگا کر جس کو ساجن بیکل تنہا چھوڑ گیا
کوئل کی فریاد پہ بُلبُل گم سم حیراں حیراں پُھول

———

خزاں کا دور ہے لیکن کسی کی چاہت سے
دھڑک رہی ہے بہار ایک ایک کونپل میں

———

تو تماشائی نہیں کھیل میں شامل ہے مگر
تیرا ہے کونسا کردار تجھے کیا معلوم

———

شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
ہاتھوں سے چائے کے برتن چھوٹے تھے

———

تیری خوُشبو اُڑا کے لے آئی
آج باد ِصبا نے حد کردی

——— 


میں خواب میں چلتا ہوا پہنچا ہوں ترے پاس
اے دوست مجھے نیند سے بیدار نہ کرنا

———

اے ابرِ محبت تُو کہیں اور برس جا
میں ریت کا ٹیلا ہوں مِری پیاس بہت ہے

———

جو اعلٰی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کر ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانے

———

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا ہے ضرورت کا پہاڑ،
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

———

فقط اتنا کہا تھا نا مجھے تم سے محبت ہے
ہماری جان لوگے کیا ذرا سی بات کے پیچھے؟