Love Poetry In Urdu

محبت پہ تم کو جو معمور کردوں
محبت کو بانہوں میں مخمور کر دوں
نظر کے حرم میں اتر کر تو دیکھو
محبت کو آنکھوں کا میں نور کر دوں
محبت ہیں آنسو ، محبت تبسم
یہی گنگنانے پہ مجبور کردوں
محبت قصیدہ محبت غزل ہے
یہ قائم محبت کا دستور کردوں ؟
محبت خدا ہے محبت خدائی
تو کیسے تمہیں دل سے میں دور کردوں
محبت بہاروں کی روحِ رواں ہے
محبت میں خوشبو کو مغرور کر دوں
یہ دھرتی ہے کیا چیز امبر پہ وشمہ
محبت ، محبت ہی مشہور کردوں

———
جوبھی شعر صفحہءقرطاس پہ اتارا ہےہم نے
اسے اپنی محبت سے سنوارا ہے ہم نے
آج وہی مجھے اپنے پیار کی بھیک نہیں دیتا
اپنےاشعار سےجس کےحسن کونکھاراہم نے
پیار و محبت نےہمیں بہت کچھ بخشا ہے
ان کی خاطرایک دل ہی توہارا ہےہم نے
اب ان کے نامےمیرےنام آنے لگے ہیں
لگتا ہےاشعارکا تیر نشانےپہ ماراہےہم نے

———

اب میں اس کا دلبردل جانی نہیں
اب وہ میراتخیل میری رانی نہیں
سینےمیں غم تو کافی چھپےہیں
آنکھوں سےاشکوں کی روانی نہیں
اس ستمگر کو بھولنا بڑا آسان ہوگا
میرے پاس اس کی کوئی نشانی نہیں
آج کل دل کادروازہ کھلا رکھتا ہےاصغر
میرےمعصوم دل کاکوئی بانی نہیں

———
موسم خزاں تھا مگر بہار لگتا تھا
نا جانے کیوں وہ شخص دل کا قرار لگتا تھا
جس موسم میں مٹ جاتا تھا پھولوں کا نشاں
اس موسم میں بھی٬ وہ شوخ گلاب لگتا تھا
اسے دیکھکر تو شمس ِوقمرکوہونےلگتا تھا حسد
وہ اِتنا حسیںِ تھا کہ حُسن کا خُدا لگتا تھا
اُسکہ دُور جانے سے چِین جاتا تھا چَین وسکون
پاس ہونے پر وہ ساری کائنات لگتا تھا
وہ چلا گیا میری زندگی سے ہمیشہ کے لیے”سلمان“
جو شخص مجھے میرے جینے کی وجہ لگتا تھا

———

خامشی کی وہ دیوار گرا دیتا
میں کوئی دور تھا،اک بار صدا دیتا
میں چلا آتا بامثل باد بہار
خزاں کے موسم میں بھی گر بتا دیتا
یا پھر اک زخم نیا مجھ کو دیتا جاتا
یا ہجر پوش کوئی مجھ کو ردا دیتا
وہ سمجھتا تھا کہ ہیں سارے گناہ میں نے کیے
میرے ناکردہ تھے ،چاہے وہ سزا دیتا
میں کے سایہ دیوار کے ساتھ تھا خاموش کھڑا
جاتے جاتے وہی دیوار گرا دیتا
تو فریدی بھی ہے بے وجہ ہی نالاں اس پر
ایسے حالات میں وہ اور تمہیں کیا دیتا

———
مسکراتی ہوئی آنکھوں میں یہ اقرار بھی ہے
میرے محبوب کو اب مجھ سے بہت پیار بھی ہے
میرے افکار میں زندہ ہے محبت بن کر
وہ مری سوچ ، مرا ذکر بھی افکار بھی ہے
اُس کی خوشبو سے مہکتی ہیں گلابی کلیاں
دل کے گلشن میں یہاں پیار کی مہکار بھی ہے
پاس آتا ہے تو رک جاتی ہے دل کی دھڑکن
ایک بھنورا مری سانسوں کا طلبگار بھی ہے
لگ کے سینے سے لٹا دی مجھے چاہت اس نے
مجھ پہ مرتا ہے محبت میں کہ دلداربھی ہے
دل کے شیشے میں نظر آتا ہے اس کا چہرہ
حُسن کے سامنے وہ حُسن کا شہکار بھی ہے
مال و دولت نہ ہی عہدے کی ہے حسرت وشمہ
زندگی تیرے بنا درد کا بازار بھی ہے

———

ادب نہ تھا فقط گفتگو کمال تھی
وفا نہ تھی فقط محبت بےمثال تھی
جانے کیسا سہتا ہو گا میرا دلبہر
میری یاد ہوگی سانس بھی محال ہوگی
چاند کی دلکش راتوں میں سرعام
میری یادوں کی آمد بھی لگاتار ہوگی
ذکر میرا ہر لمحھ تاروں سے بھی ہوگا
سننی مجھے بھی یہ گفتار ہوگی
ظالم نہ تھا فقط سنگدلی کمال تھی
ادائیگی نہ تھی فقط سخن بے مثال تھی