Love Poetry In Urdu

محبّت ایسی تھی کہ اُن کو بتائی نہ گئی
چوٹ دل پر تھی اس لئے دکھائی نہ گئی
چاہتے نہیں تھے اُن سے دور ہونا پر

———
دوری اتنی تھی کہ مٹائی نہ گئی
دوریوں کی نہ پرواہ کرنا
دل جب بھی پکارے بلا لینا
ہم زیادہ دور نہیں آپ سے
بس پلکوں کو اپنی مِلا لینا

———
اب انہیں اصغر سے محبت نہیں رہی
اپنے پاس پیار کی دولت نہیں رہی
ان کے غم کےسہارےجیےجارہاہوں
مگرزندگی میں اب وہ لذت نہیں رہی

———

دکھ میں خوشی کی وجہ بنتی ہے محبّت
درد میں یادوں کی وجہ بنتی ہے محبّت
جب کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ہمیں دنیا میں
تب ہمارے جینے کی وجہ بنتی ہے محبّت

———
اوس کی بوندیں پھولوں کو بھیگا رہی ہے
ٹھنڈی لہریں ایک تازگی جگا رہی ہے
آئیے اور ہو جائیں آپ بھی ان میں شامل
اک پیاری سی صبح آپ کو جگا رہی ہے

———
میرے یار کو گر مجھ پہ پیار آ جائے
زندگی میں ایک بار پھر بہار آ جائے
میں اسے ایک معجزہ ہی سمجھوں
جو ڈاک میں ُپیغام وصل یارآجائے

———

شام کا ڈھلتا سورج ایک حسین دن کی کہانی ہے
اُفق پر پھیلی سرخی اُس کی بکھری ہوئی جوانی ہے
یا حیران اس کی آنکھوں میں سمٹی حیا کی لالی ہے
یامست شبابی نینوں کی اُمڈتی ہوئی کہانی ہے
یا درد میں ڈوبے یادوں کی غمناک سی نشانی ہے
یا نشے میں بہکے خیالوں کی جھولتی ہوئی جوانی ہے

———
کیا پتا ہے تجھے؟
کہ میرے جذباتوں کے الفاظ، تُو ہے
میرے لبوں کی مسکراہٹ کی وجہ، تُو ہے
میرے چہرے کی معصومیت میں چھُپا راز، تُو ہے
میرے نینوں میں قید سُکوں کا ہمراز، تُو ہے
سُرمئی کاجل سے سجی خوبصورت پلکوں کا ناز، تُو ہے
جھوم کر چلنے والے قدموں کا بل کھاتا انداز، تُو ہے
سوئی ہوئی محبت کی میٹھے سُروں کا آغاز، تُو ہے
اب اور کیا بتائوں، کہ تُو کیا ہے میرا
بس جان لے اِتنا کہ، میرے سولہ سنگھار کی لاج، تُو ہے

———

زنجیریں کاٹ سکتا تھا
قفس کو توڑ سکتا تھا
ہَوا میں تیر سکتا تھا
پانی پہ دوڑ سکتا تھا
میسر جو تُو مجھے ہوتا
میں دُنیا چھوڑ سکتا تھا
نیا کوئی رُخ کہانی میں
یہیں سے موڑ سکتا تھا
تمھارے ایک میسج پر
میں گاڑی چھوڑ سکتا تھا

———
دفعتًا اس کا کل خیال آیا
پھر طبیعت میں کیا ابال آیا
ہر روایت سےتھی بغاوت مجھ کو
پگڑیا ں سب کی میں اچھال آیا
لوگ کتنےگنوا دیئے میں نے
جی میں رہ رہ کے یہ ملال آیا
سن بلوغت کے، اور محبت کی
روپ اس پر بہت کمال آیا
جلد بازی ڈبو گئی مجھ کو
مجھ پہ ایسے نہیں زوال آیا
یہ کمالِ خیالِ یار تھا بس
میری قامت میں جو جمال آیا
پھرجواب اس کو کیسے میں دیتا
استقامت کا جب سوال آیا
اک نظردیکھنا تھاجاکراس کو
کام یہ بھی ‘کبھی’ پہ ٹال آیا
پیار کی بات جب بھی کی اس سے
وہ گِلے کتنے ہی نکال آیا
وہ فقط ایک لمحہ ہی تھا خلیل
جس کا مجھ پر یہ سب وبال آیا